بسر و چشم
قسم کلام: متعلق فعل
معنی
١ - سر آنکھوں پر، خوشی سے، رضامندی کے ساتھ، بہت اچھا۔ "جو آپ فرمائیں گے بسر و چشم قبول کروں گی۔" ( ١٩٠٤ء، آفتاب شجاعت، ١١١٩:٣ )
اشتقاق
فارسی اسما پر مشتمل مرکب عطفی 'سر و چشم' کے ساتھ فارسی حرف جار 'ب' بطور سابقہ لگنے سے 'بسر و چشم' مرکب بنا۔ اردو میں بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٨٧٢ء میں "بنات النعش" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سر آنکھوں پر، خوشی سے، رضامندی کے ساتھ، بہت اچھا۔ "جو آپ فرمائیں گے بسر و چشم قبول کروں گی۔" ( ١٩٠٤ء، آفتاب شجاعت، ١١١٩:٣ )